‏بھارت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏بھارت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اکتوبر 15, 2016

بھارت میں درندگی کی نئی مثال قائم کردی گئی، قبر سے مسلمان خاتون کی لاش نکال کر زنا کی گئی۔

بھارت میں درندگی کی نئی مثال قائم کردی گئی، قبر سے مسلمان خاتون کی لاش نکال کر زنا کی گئی۔


Men gang rape body of a woman after exhuming it... by myvoicetv

اگست 05, 2016

انسانی سمگلنگ اور جسم فروشی سے بچ کر نکلی ایک عورت کی کہانی انھی کی زبانی۔

کرٹیسی بی بی سی اردو
میرا شوہر مجھے ایک کمرے میں لے گیا، جہاں بہت سی لڑکیاں بیٹھی تھیں، اور بولا کہ تم میرے خلاف گھریلو تشدد کا کیس کروگی، تو بیشک میں تمہیں یہاں لے آیا، اب زندگی بھر یہیں رہنا۔

٭ ’اب میں گندی لڑکی ہوگئی تھی‘

’یہ ایک کوٹھا تھا۔ میرے شوہر مجھ سے بدلہ لینے کے لیے مجھے یہاں دھوکے سے لے آیا تھا۔ میں 16 سال کی تھی جب اس سے شادی کر دی گئی، وہ بہت مار پیٹ کرتا تھا۔

میں پڑھی لکھی نہیں تھي پر ہمت کر کے واپس گھر بھاگ آئی اور اس کے خلاف گھریلو تشدد کا مقدمہ دائر کر دیا۔
یہ اسی کا بدلہ تھا۔ بنگال کے ایک گاؤں سے وہ مجھے نشے کی دوا کھلا کر پُونے کے کوٹھے میں لے آیا تھا۔

وہاں مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا تھا۔ روز ہر وقت روتی رہتی، یہی سوچتے ہوئے کہ کب گھر واپس جا سکوں گی۔






ایک سماجی تنظیم نے تربیت دی اور دکان شروع کرائی

اس دوران میرے اندر بہت سارا غصہ اور انصاف پانے کی ضد پیدا ہو گئی۔
پولیس نے جب چھڑایا اور پُونے سے واپس بنگال آئی تو وکیل کے پاس گئی اور کہا کہ شوہر کے خلاف انسانی سمگلنگ کا کیس کرنا ہے۔
انہوں نے بہت سارے پیسے مانگ ڈالے۔ پر میرے پاس کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ کئی بار تو کھانے کے لیے بھی نہیں ہوتا تھا۔


پھر ایک سماجی تنظیم نے تربیت دی اور دکان شروع کرائی۔
میں راشن کا سامان فروخت لگی۔ خوف کو پیچھے کر، ایک بار پھر لوگوں کا سامنا کرنے کی ہمت ہوئی۔
اسی ادارے کی مدد سے شوہر کے خلاف انسانی اسمگلنگ کا مقدمہ بھی دائر کروایا۔

اپنے خاندان میں پہلی خاتون ہوں جس نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر جب بیان دینے کے لیے ایک بار پھر پُونے جانا پڑا تو پھر مشکلات شروع ہوئیں۔
گاؤں والوں نے طعنے دینے شروع کر دیے۔ وہ کہتے، کہاں جاتی ہو؟ کیا کرتی ہو؟ ایک بار جہاں سے ہو آئی وہاں اب کیوں جاتی ہو؟
خاندان سے کہتے کہ اتنی بڑی لڑکی ہے، ایک بار شادی خراب ہوئی تو کیا، طلاق دلاؤ اور پھر کرا دو، گھر میں رکھنے سے شرم نہیں آتی؟
اور یہ سب سن کر میرا خاندان مجھ سے ہی جھگڑتا ہے۔ بس یہی مجھے سب برا لگتا ہے۔

میں جب اتنی کوشش کر رہی ہوں کہ سب ٹھیک ہو جائے، میری دکان چلے، اس کے بعد خاندان والے بالکل ساتھ نہیں دیتے، کہتے ہیں تم سے ہوتا ہے تو کرو، ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔
تو میں نے اب یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک انسان جو اپنے لیے سوچتا ہے وہی سب سے اہم ہے۔
اگر میں ہی سوچوں کہ میں گندی ہوں تو سب خراب ہو جائے گا۔ پر میں نے سمجھا ہے کہ میں ٹھیک ہوں تو اب ٹھیک لگتا ہے۔



جولائی 29, 2016

غریب میاں بیوی پندرہ روپے کا قرض ادا نہ کرسکنے پر قتل کردیے گئے

نئی دہلی (اردو وائس: ویب ڈیسک)  بھارتی پولیس کے مطابق ریاست اتر پردیش میں ایک میاں بیوی کو 15 روپے کا قرض بروقت ادا نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک کر دیا گیا ۔ جمعرات کو یہ میاں بیوی مزدوری کے لیے جارہے تھے کہ راستے میں ایک کریانہ اسٹور کے مالک نے انہیں پندرہ روپے قرض ادا کرنے کے لئے کہا، جس کے بعد لڑائی ہوئی اور دکان کے مالک نے کلہاڑیوں کے وار کرتے ہوئے میاں بیوی کو قتل کر دیا۔ 

ضلع مین پوری کے تفتیشی افسر ارون کمار نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دکاندار کی طرف سے سوال کرنے کے بعد میاں بیوی نے کہا کہ وہ بعد میں پندرہ روپے واپس کر دیں گے لیکن دکاندار اشتعال آ کرکلہاڑی سے وار کرنا شروع کر دیا۔ ملزم  دکاندار کی عمر 61 سال کے قریب ہے اور درمیانی عمر کے میاں بیوی نے ایک ہفتہ پہلے یہ کہتے ہوئے سامان خریدا تھا کہ وہ آئندہ چند روز کے اندر اندر ہی اسے پندرہ روپے واپس کر دیں گے۔ واقعے کے بعد دکاندار کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ اس سے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ بھارت میں عدم برداشت بڑھ گئی ہے معمولی باتوں پرشروع ہونے والی لڑائیوں کی وجہ سے سالانہ ہزاروں افراد مارے جاتے ہیں۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار چودہ میں نئی دہلی میں 15 فیصد قتل عدم برداشت کی وجہ سے شروع ہونے والی لڑائی سے ہوئے اور یہ قتل کرنے والے وہ عام لوگ تھے، جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔ بھارتی نیشنل کریمنل ریکارڈ بیورو کے مطابق سن دو ہزار چودہ میں ملک بھر میں 33 ہزار سے زائد افراد کو قتل کیا گیا تھا۔

جولائی 25, 2016

بھارت میں #گائے کا پیشاب دودھ سے زیادہ فروخت ہونے لگا، 80 روپے لیٹر

نئی دہلی (این این آئی 25 جولائی 2016) بھارت میں گائے کا پیشاب دودھ سے زیاد فروخت ہونے لگا ہے، فی لیٹر پیشاب کے نرخ 80سے سو روپے ہیں، میڈیارپورٹس کے مطابق مودی حکومت نے گزشتہ دو برس میں گائے کیلئے باڑوں کی تعمیر پر پانچ ارب آٹھ کروڑ روپے خرچ کیے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں پیشاب کے استعمال سے تین مہلک بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ بھارت میں دودھ کی فروخت گائے کے پیشاب کے مقابلے میں کم ہو گئی ہے۔ 

بھارتی خواتین اسے اکھٹا کرنے کیلئے بہت تگ و دو کرتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ غلاظت کئی طرح کے خطرناک بیکٹیریا اور وائرس کی حامل ہے ۔سڈنی یونیورسٹی کے بھارتی پروفیسر کا کہنا تھا کہ بھارت میں تین مہلک امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں جو گائے کے پیشاب کی وجہ سے لوگوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ گائے کی غلاظت سے گھریلو سطح پر تقریباً تیس ادویات تیا ر کی جا رہی ہیں۔بھارت میں گائے کے پیشاب کا سب سے بڑا خریدار یوگا گرو بابا رام دیو ہے جو اس غلاظت سے مختلف مصنوعات تیار کرتا ہے جس کی وجہ سے کئی عالمی سطح کے کارروباری گروپس کی بھارت میں تیار کردہپروڈکٹس کے بند ہونے کا خدشہ پید اہوگیا ہے۔رام دیو یورین سے تیار اپنی مصنوعات کی فروخت کیلئے یومیہ ڈیڑھ لاکھ روپے اشتہاری مہم پر خرچ کرتا ہے۔ 



بھارت میں ایک تھراپی ہیلتھ کلینک ماہانہ 25ہزار لیٹرپیشاب خریدتا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ ا س نے گزشتہ دو دہائیوں میں 12لاکھ مریضوں کا علاج اسی غلاظت سے کیا ہے جو اپنی پروڈکٹس کو یومیہ چار ہزار آن لائن مریضوں کو فروخت کرتا ہے۔بھارتی جنتا پارٹی کے لوک سبھا کے رکن سبرامینیم سوامی گائے کے تحفظ کے لئے موجودہ حکومتی کوششوں سے اتفاق نہیں کرتے، انہوں نے کہاکہ بھارت اس وقت دنیا میں گوشت برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اسی لئے بھینس کی آڑ میں لوگ گائے کو ذبح کرتے ہیں اور بھینس کا گوشت بنا کر فروخت کرتے ہیں


جولائی 20, 2016

کشمیر کی بولتی تصویریں: ہسپتال جانے والا شخص بھارتی فوج کو دانت کا مرض دکھاتے ہوئے

درجہ ذیل تصویر کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔  ہسپتال جانے والے شخص کو بھارتی فوجی راستے میں روک  پوچھ رہا ہے کہ کہاں جارہے ہوں۔ کشمیریوں کا تو گھروں سے نکلنا بند ہے۔ کشمیری شہری ہونٹ اوپر کھینچ کر فوجی کو بیمار دانت دکھارہا ہے۔ کہ اس کے علاج کے لئے ہسپتال جارہا ہوں۔ شیم شیم بھارت



جولائی 17, 2016

بھارت مقبوضہ #کشمیر میں خون کی ہولی کھیل لی، اب تک 45 سے زائد کشمیری شہید ہوچکے، کیمیائی ہتھیاروں سے ہزاروں مفلوج


مقبوضہ جموکشمیر ( اردو وائس پاکستان : مانیٹرنگ ڈیسک 17 جولائی 2016) بھارت کی کشمیر میں جارحیت جاری ہے۔ حالیہ جھڑپوں میں 45 سے زائد کشمیر ی آزادی وطن کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا، ہزاروں کشمیری مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ سے مفلوج ہوگئے ہیں اور ہزاروں ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہیں۔ بھارتی فوج احتجاج کرنے والوں پر اندھا دھند فائرنگ کر رہی ہے۔ بے گناہ نوجوان کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت کے بعد کشمیر بھر میں احتجاج جاری ہے۔ بھارت فوج اسلحےسے لیس ہوکر پرامن طور پر احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ ڈالے ہیں۔

پرامن مظاہرین پر بھارتی فوج گولے ، ربڑ کے گولے اور مہلک ترین آنسو گیس فائر کر رہی ہے جس سے 1500 سے زائد کشمیری زخمی ہوچکے ہیں۔ جبکہ 45 شہید ہوگئے ہیں۔ بھارتی مظالم کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کردی گئیں ہیں، جنہیں دیکھ بھارت فوج کی بر بریت پر اپنے کشمیری بھائیوں پر مظالم پر ہر مسلمان اور خاص کر پاکستانی مشتعل ہے۔ مگر اقوام متحدہ، اسلامی تنظیم اور دیگر با رسوخ اسلامی ممالک اندھے اور گونگے بنے بیٹھے ہیں۔ یہاں تک کہ پاکستان کی بھارت نواز حکومت بھی خاموش تماشائی ہے۔

ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں۔ زخمیوں میں زیادہ تر کے چہروں ، سینوں، گردنوں پر شدید چوٹیں آئیں ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فوج کیا چاہتی ہے۔ زخمیوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

بھارتی اخبار کے مطابق 1500 سو کشمیر ی شدید زخمی اور 40 سے زائد جان بحق ہوچکے ہیں۔ سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں ایک 12 سالہ بچے کو لایا گیا ہے جس کی دونوں آنکھوں میں گولیاں ماری گئی ہیں۔ بچے کا نام عمرنذیر ہے بچے کا کہنا ہے کہ اس کی بائیں آنکھ کی بینائی چلی گئی ہے اور وہ بائیں آنکھ سے بالکل نہیں دیکھ سکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کی دائیں آنکھ کی بینائی بھی جاچکی ہے یا جانے والی ہے۔ پولیس کی اندھا دھند فائرنگ سے ربڑ کی پیلیٹس کی گولیاں عمر کی دونوں آنکھوں میں جالگیں۔ صرف عمر ہی نہیں ہسپتال میں کئی ایسے بچے ہیں جو شدید متاثر ہیں اور کسی بھی قسم کی جسمانی معذوری کا شکار ہوگئے ہیں۔

مذکورہ ہسپتال میں ایک 14 سالہ لڑکی جس کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیان سے ہے موت و زندگی کی کشمکش میں ہے۔ اور آئی سی یو میں آخری سانسیں لے رہی ہے۔ اسے بھی پیلیٹس کی گولیاں لگیں ہیں۔ اس گولی کو بھارتی سیکیوریٹی ایجنسیز نان لیتھل ویپن کہتے ہیں۔ ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ اس بچی کو گولیاں کسی احتجاجی مظاہرے میں نہیں لگی بلکہ اس کے گھر کے کچن میں آکر لگیں ہیں۔ گولیاں لگنے سے اس کی دونوں آنکھیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ " کہ بچی کی بینائی واپس نہیں آسکتی" ڈاکٹروں کے مطابق لڑکی انتہائی نازک حالت میں ہے کسی بھی وقت دنیا فانی سے جاسکتی ہے۔

کشمیری نوجوان، جسے بھارتی فوج حزب المجاہدی کا کمانڈر سمجھتی ہے۔ بھارتی فوج اور بھاریت قیادت کو آگ اس وقت لگی جب کشمیری نوجوان برہان مظفر کو کشمریوں نے پاکستان پرچم میں لپیٹ کر نماز جنازی کے لئےگئے۔ نہ صرف یہ بلکہ برہان کے نماز جنازہ میں لاکھوں کی تعداد میں کشمیری جمع ہوگئے تھے اور پاکستانی پرچم لہرائے ہوئے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں نعرے لگارہےتھے۔برہان کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں شروع ہونے والے مظاہروں پر بھارتی فوج کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ اور مہلک ترین آنسو گیس فائر کئے جانے سے 40 سے زائد شہید ہوگئے ہیں۔۔ جبکہ 1400 سے زائد زخمی ہیں۔ زخمی کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ 1400 زخمیوں میں سے 330 پلواما کے ضلعی ہسپتال میں زیر علاج ہیں، جبکہ 200 کلگام، 115 اننتناگ، 100 بارامولا جنوبی کشمیر، 120 بندی پورا، 49 سری نگر، 40 شوپیان، 30 بٹگام کے ضلعی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔



بھارتی مظالم کی مزید تصاویر یہاں دیکھ سکتے ہیں

لنک یہ ہے

مشہور اشاعتیں

گوگل اشتہار

تازہ ترین خبریں