Advertisement

فروری 02, 2026

سعودی عرب میں 19 ہزار 975 افراد کو ڈی پورٹ کردیا گیا

سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئیں۔

مقامی میڈیا ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قوانین کی مزید 19 ہزار 975 کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ 14 ہزار867 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
22 سے 28 جنوری 2026 کے درمیان 12 ہزار906 اقامہ قانون، 3 ہزار918 بارڈر سکیورٹی اور 3 ہزار 151 قانون محنت کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔

سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 419 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جن میں 60 فیصد ایتھوپین، 39 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
48 ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جو سعودی عرب سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 11 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

صدر میں گل پلازہ کے قریب واقع النجیبی موبائل مارکیٹ میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی،

کراچی: پیر کے روز شہر کے مرکزی علاقے صدر میں گل پلازہ کے قریب واقع النجیبی موبائل مارکیٹ میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی، جس نے عمارت کی ساتویں منزل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی تین گاڑیاں موقع پر پہنچیں، تاہم آگ کی شدت زیادہ ہونے کے باعث مزید گاڑیاں طلب کر لی گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ساتویں منزل پر لوگ پھنس گئے تھے جبکہ دھوئیں سے ایک شخص متاثر ہوا۔ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم دکانداروں نے حفاظتی طور پر اپنی دکانیں بند کرنا شروع کر دیں۔




افسوسناک طور پر گل پلازہ میں آگ اور دھوئیں کے باعث کئی افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ منزل سے لاشیں برآمد کیں، جس نے اس واقعے کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی مراکز میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کر لی اور فوری ریسکیو و امدادی کارروائی کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ آتشزدگی کے اسباب اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس پی ٹریفک ساؤتھ کو جائے وقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت دی اور متاثرہ عمارت و اطراف کے علاقوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات کا حکم دیا۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فائر بریگیڈ کو فوری طور پر موقع پر پہنچنے اور ہائیڈرینٹس پر ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے اور ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔

فروری 01, 2026

شان شاہد کی عیدالفطر 2026 پر شاندار واپسی، پنجابی ایکشن فلم ’بُلّھا‘ کا اعلان

پاکستان: شیک فلمز نے اپنی بڑی پاکستانی پنجابی ایکشن فلم 'بُلّھا' کا موشن پوسٹر جاری کر دیا ہے، جس کے بعد شائقینِ سینما اور فلمی حلقوں میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ فلم میں پاکستان کے سپر اسٹار شان شاہد مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ دیگر نمایاں اداکاروں میں مونا لیزا، نعیمہ بٹ، عدنان بٹ، علی جوش، ماہَم مرزا اور آصف خان شامل ہیں۔ یہ فلم تقریباً 30 سال بعد شان شاہد اور سلیم شیخ کی اسکرین پر یادگار واپسی بھی ہے، جس کا شائقین طویل عرصے سے انتظار کر رہے تھے فلم کی تقسیم ایچ کے سی انٹرٹینمنٹ کے تحت کی جا رہی ہے

فلم کے موشن پوسٹر نے 'بُلّھا' کے شاندار انداز، سنسنی خیز فضا اور بصری وسعت کی ایک جھلک پیش کی ہے۔ اسی سلسلے میں فلم کا باضابطہ ٹیذر لانچ ایونٹ 30 جنوری 2026 کو سینی اسٹار، شِنہوا مال، لاہور میں منعقد کیا جائے گا، جس میں فلم کے فنکاروں، تخلیقی ٹیم اور میڈیا نمائندگان کی شرکت متوقع ہے۔ فلم عیدالفطر 2026 پر ملک بھر میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ نامور ہدایتکار شعیب خان کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم 'بُلّھا' ایک ایسے جدید دور کے ہیرو کی کہانی ہے جو ناانصافی کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ فلم پنجابی ثقافت اور روحانی پس منظر میں جڑی ایک طاقتور داستان پیش کرتی ہے، جس میں ایکشن کے ساتھ جذباتی گہرائی بھی شامل ہے۔ فلم ظلم، مزاحمت، حوصلے اور حق و باطل کی ازلی کشمکش کو اجاگر کرتی ہے۔ اس موقع پر ہدایتکار شعیب خان نے کہا:"'بُلّھا' میری محبت اور محنت کا نتیجہ ہے، جو عالمی سطح پر ناظرین سے جڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ فلم ظلم، مزاحمت، ایمان اور وقار جیسے آفاقی موضوعات کو پنجابی ثقافت میں سموئے ہوئے ہے۔"



فلم کے ہیرو شان شاہد نے کہا: "'بُلّھا' محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک آواز ہے۔ یہ وہ سینما ہے جس کی آج ہمیں ضرورت ہے—بے خوف، بامعنی اور سچ پر مبنی۔ یہ فلم ہماری ثقافت اور ایمان کی طاقت کو یاد دلاتی ہے اور دیر تک ناظرین کے دل و دماغ پر اثر چھوڑتی ہے۔" فلم کے پروڈیوسر مسٹر وہورا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "'بُلّھا' پنجابی سینما کی تجارتی صلاحیت اور ثقافتی طاقت کا ثبوت ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ فلم نہ صرف ناظرین کو متاثر کرے گی بلکہ معیاری اور مقامی ثقافت سے جڑی فلم سازی کے ایک نئے دور کی بنیاد بھی رکھے گی، جو پاکستانی سینما کے مستقبل کو مضبوط بنائے گی۔"

فلم کی کہانی معروف اور لیجنڈری مصنف ناصر ادیب نے تحریر کی ہے، جن کی تحریری خدمات جنوبی ایشیائی سینما کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس مضبوط تخلیقی ٹیم کے ساتھ 'بُلّھا' کو سال کی ایک بڑی اور یادگار فلم قرار دیا جا رہا ہے، جو عوامی مقبولیت کے ساتھ بامعنی کہانی، شاندار اداکاری اور ثقافتی ہم آہنگی کا حسین امتزاج پیش کرے گی۔

جنوری 30, 2026

میزان بینک کوملائیشیا کے مرکزی بینک کی جانب سے رسک شیئرنگ فنانس پر مہارت شیئرکرنے کی دعوت

کراچی: پاکستان کے ممتاز اور سب سے بڑے اسلامی بینک میزان بینک نے رسک شیئرنگ فنانس پر علم و تجربہ کے تبادلہ کیلئے ملائیشیا کے مرکزی بینک، بینک نیگارا ملائیشیا  (BNM)کے ساتھ تعاون کیا ہے۔

میزان بینک نے بینک نیگارا ملائیشیاکی دعوت پر ملائیشیا میں اسلامک بینکنگ کے ماہرین کیلئے ڈیزائن کیے گئے ایک پروگرام "انکیوبیشن پروگرام آن رسک شیئرنگ"میں بطور مقرر شرکت کی۔ اس پروگرام کا مقصد ملائیشیا کے اسلامی بینکاری سیکٹر میں رسک شیئرنگ اور نان ڈیٹ بیسڈ مالیاتی سلوشنز کے فروغ میں معاونت فراہم کرناتھا۔ پروگرام میں میزان بینک کی مارکیٹ لیڈرشپ اوراسلامی بینکاری میں وسیع تجربہ سے استفادہ کیاگیا۔



پروگرام میں میزان بینک کی نمائندگی شریعہ کمپلائنس کے سربراہ شایان احمد بیگ نے کی۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان میں شریعہ کے مطابق رسک شیئرنگ پراڈکٹس کی تشکیل، نفاذ اورگورننس سے متعلق میزان بینک کے عملی تجربے کی بنیاد پر تفصیلی گفتگوکی۔ سیشنز میں رسک شیئرنگ کے نظریاتی اصولوں کو قابلِ عمل بینکاری سلوشنز میں ڈھالنے پر توجہ دی گئی جبکہ ریگولیٹری تقاضوں، آپریشنل نفاذاور شریعہ گورننس فریم ورک پربھی تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ میزان بینک نے رسک شیئرنگ مقاصدسے ہم آہنگ متبادل مصنوعات کے اسٹرکچر اورمقامی ریگولیٹری تقاضوں سے متعلق اپنے تجربات بھی شیئر کیے۔

اس دورہ کے دوران شایان احمد بیگ نے بینک نیگارا ملائیشیا کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کی اور حال ہی میں لانچ کی گئی میزان بینک کی آفیشل تاریخ پر مبنی کتاب"Unconventional: The Bank No One Saw Coming," نیگارا بینک کے اسسٹنٹ گورنر کو پیش کی۔ اس کتاب میں پاکستان میں اسلامی بینکاری کی ترقی میں میزان بینک کے سفر اور کردارکو اجاگر کیاگیاہے۔

اس پروگرام میں میزان بینک کی شرکت اسلامی بینکاری کے شعبہ میں اس کے قائدانہ کردار، تکنیکی مہارت اور فکری قیادت کے بڑھتے ہوئے عالمی اعتراف کی عکاسی ہے۔ کسی غیر ملکی مرکزی بینک کی جانب سے دعوت دیاجانا اس بات کی عکاسی ہے کہ میزان بینک نہ صرف پاکستان بلکہ اہم بین الاقوامی مارکیٹس میں بھی اسلامی مالیات کے ایک نمایاں اور معیاری ادارے کے طورپر تسلیم کیا جاتاہے۔

محمد سعید مہدی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’دی آئی وِٹنس‘ کی لاہور میں رونمائی

لاہور:  محمد سعید مہدی کی طویل انتظار کے بعد شائع ہونے والی یادداشتوں پر مبنی کتاب

 The Eyewitness: Standing in the Shadows of Pakistan's History

کی رونمائی لاہور میں ایک پروقار اور بھرپور تقریب کے دوران کی گئی۔ لائٹ اسٹون پبلشرز کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس تقریب میں 600 سے زائد شرکاء نے شرکت کی، جن میں سفارتکار، سینئر صحافی، قانونی ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور ادبی شخصیات شامل تھیں۔ یہ کتاب پاکستان کی سیاسی اور صحافتی تاریخ میں ایک اہم اضافہ قرار دی جا رہی ہے۔

تقریب کا آغاز لائٹ اسٹون پبلشرز کی منیجنگ ڈائریکٹر آمنہ سید کے افتتاحی خطاب سے ہوا، جنہوں نے کتاب کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ محض یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کے اہم اور فیصلہ کن ادوار کا چشم دید بیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد سعید مہدی کے مشاہدے میں آنے والے ادوار آئندہ نسلوں کے لیے قیمتی تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔



آمنہ سید نے لائٹ اسٹون پبلشرز کی تعلیمی اور ثقافتی خدمات کا بھی ذکر کیا، خصوصاً ادب فیسٹیول کے ذریعے فکری اور تخلیقی ترقی کے فروغ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کے شائع کردہ اسکول نصاب کے کتب ثقافتی اقدار سے ہم آہنگ ہیں اور تنقیدی سوچ، جستجو اور تخیل کو فروغ دیتے ہیں۔

مصنف محمد سعید مہدی نے اپنے خطاب میں کتاب لکھنے کے پس منظر پر بات کرتے ہوئے کہا،
"میں نے یہ کتاب سچ کو محفوظ کرنے کے لیے لکھی ہے۔ میں نے وہی لکھا ہے جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، نہ اس میں کچھ بڑھایا اور نہ گھٹایا۔"اس کے بعد گفتگو نے کتاب کے سیاسی، عدالتی اور صحافتی پہلوؤں کا احاطہ کیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی اور سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے چشم دید تاریخی بیانات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایسے بیانات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں شامل بھٹو مقدمے کے عدالتی پہلو ملکی قانونی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب لکھنا جہاد کی مانند ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایک جملہ بھی ردعمل کا باعث بن سکتا ہے، مگر محمد سعید مہدی نے بے خوف ہو کر سچ لکھا۔ انہوں نے

جنوری 27, 2026

خوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ کی جانب سے SME کلسٹر شوکیس ایکسپو 2026 میں نمایاں کاروباری حل پیش


لاہور ؛ خوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ  نے SME میڈ اِن پاکستان کلسٹر ایکسپو 2026 میں اپنے اسٹال کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کے لیے مؤثر اور جامع حل پیش کرتے ہوئے نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس ایکسپو کا انعقاد اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کے زیرِ اہتمام کیا گیا جس میں ملک بھر سے SME شعبے میں کام کرنے والے معتبر اداروں اور پلیٹ فارمز نے شرکت کی۔

SME کلائنٹس کے ساتھ کامیاب شراکت داری اور ثابت شدہ کارکردگی کی بنیاد پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک کو اپنے خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے باعث بھرپور پذیرائی ملی۔ یہ قرضہ پروگرام مختلف زمروں پر مشتمل ہے جو بینک کے متنوع صارفین اور ان کی مختلف کاروباری ضروریات کو مدِنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔



ثاقب حسین ، ریجنل بزنس ہیڈ،خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا"خوشحالی مائیکروفنانس بینک میں SME شعبے کے لیے ہماری اولین ترجیح استحکام اور ترقی ہے جو سادہ اور مؤثر ذرائع کے ذریعے حاصل کی جاتی ہےتاکہ کاروباری مالکان اپنے اثاثوں کو خطرے میں ڈالے بغیر اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔"

بینک کے اسٹال میں خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے تحت مختلف نمایاں حل پیش کیے گئے جن میں رننگ فنانس قرضہ شامل تھا جو مؤثر کیش فلو مینجمنٹ اور ورکنگ کیپیٹل کے تسلسل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، کمرشل وہیکل فنانسنگ جو لاجسٹکس، نقل و حرکت اور تقسیم کی صلاحیت کو بہتر بنا کر کاروباری توسیع میں مدد فراہم کرتی ہے جبکہ چھوٹے کاروباروں کے لیے سولر قرضہ لاگت میں کمی، توانائی میں خود کفالت اور طویل المدتی عملی پائیداری کو فروغ دیتا ہے۔ یہ تمام حل شرکاء میں خاصی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے جو SME شعبے کی عملی ضروریات سے ان کی براہِ راست مطابقت کو ظاہر کرتا ہے۔

صدف ارشد رانا، سینئر ایریا مینیجر، خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا"ہمارے خوشحالی کاروباری قرضہ جات ہمارے صارفین کے ساتھ ہمارے مضبوط تعلق اور مختلف معاشرتی طبقات کی ضروریات کو سمجھنے کا ثبوت ہیں جو مختلف SME صنعتوں میں محفوظ اور پائیدار ترقی کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔"

ملک کے SME شعبے کے ایک مضبوط شراکت دار کے طور پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک اپنے دیہی، شہری اور نیم شہری صارفین کو مخصوص مالی مصنوعات، خدمات اور رہنمائی فراہم کرتا رہے گا جو پاکستان کے SME شعبے کی ترقی کے لیے بینک کے عزم اور ایک نمایاں مائیکروفنانس ادارے کے طور پر اس کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

نیہا کریم اللہ اسپاٹیفائی کے ایکول پاکستان کی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کی ایمبیسڈر منتخب

نیو یارک کے ٹائمز اسکوائر میں اسپاٹیفائی کے ڈیجیٹل بل بورڈ پر نیہا کریم اللہ جلوہ گر ہوئیں

کراچی ؛ اسپاٹیفائی نے ابھرتی ہوئی ڈانس -پاپ گلوکارہ نیہا کریم اللہ کو پاکستانی میوزک کی دنیا میں ایک تازہ اور مسحور کن آواز کو سراہنے کے ساتھ سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے لیے ایکول پاکستان ایمبیسڈر منتخب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں 22 جنوری کو نیہا کریم اللہ نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں اسپاٹیفائی کے ڈیجیٹل بل بورڈ پر جلوہ گر ہوئیں اور اس پلیٹ فارم ان کے گانے مختلف منتخب پلے لسٹس میں بھی شامل کئے گئے جو انکی گلوکاری کے سفر میں بڑا سنگ میل ہے۔

اپنی کہانی سنانے کے جذباتی انداز اور الیکٹرانک دھنوں کے امتزاج سے نیہا کی موسیقی نئی نسل کے سامعین کو مسحور کردیتی ہے۔ نیہا کے خصوصی گیت ''آؤ تو ذرا'' نے اپنے ماڈرن طریقے سے تیاری اور دل کو چھولینے والے انداز سے سامعین کو متوجہ کیا ہے جس کی بدولت انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی منفرد سامعین سے جڑنے میں مدد ملی ہے۔

انکی مسلسل مقبولیت کا اظہار پاکستان سے بڑھ کر امریکا، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور متحدہ عرب امارات سے سامعین کی بڑھتی تعداد نیہا کی موسیقی کی عالمی رسائی کی عکاس ہے۔ اسپاٹیفائی کے اعداد و شمار کے مطابق ان کے 85 فیصد سامعین ملینیئلز اور جین زی سے تعلق رکھتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہ نوجوان انکی موسیقی کے انداز کو پسند کرتے ہیں۔

  

ڈانس۔پاپ کے شعبے میں نیہا کے گیتوں کے کیٹالاگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکے گیتوں میں توانائی اور جذبات کا اظہار ایک توازن کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ انکے گیت جیسے Modern Day Witch Trial (Mdwt) اور 'دیوانے' ردھم اور رقص کے انداز کو نمایاں کرتے ہیں جبکہ 'نہ کروں ' گیت سے انکی تخلیق کا ایک منفرد زاویہ سامنے آیا ہے۔ مجموعی طور پر، انکی گلوکاری کی صلاحیتیں منفردآواز اور کہانی سنانے کے دلچسپ طریقوں کے ذریعے سامعین کو جوڑے رکھتی ہیں۔

ایکول پاکستان کی ایمبیسڈر بننے پر نیہا کریم اللہ نے کہا، ''اسپاٹیفائی ایکول پاکستان پروگرام خواتین گلوکاروں کے لیے واقعی ایک شاندار اقدام ہے۔ یہ خواتین گلوکاروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، ہماری کہانیوں کو جگہ دیتا ہے اور ہمیں وہ پہچان دیتا ہے جس کی بہت عرصے سے ضرورت تھی۔ یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جو ہماری جدوجہد کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری آواز کو مزید بلند کرتا ہے۔ ایسی کاوش کا حصہ بننا جو خواتین کی حوصلہ افزائی کرے، انکی نمائندگی میں پیش قدمی کرے اور نئی نسل کی لڑکیوں کو موسیقی کے لئے مائیک اٹھانے کی ترغیب دے، وہ میرے لئے بہت خاص ہے۔ "

اسپاٹیفائی پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں آرٹسٹ اینڈ لیبل پارٹنرشپس کی منیجر رطابہ یعقوب نے کہا، ''پاکستانی میوزک انڈسٹری میں نیہا کریم اللہ ایک نئی آواز ہے جو تنوع اور تازگی لیکر آئی ہیں۔ ایکو ل پاکستان کے ذریعے ہم خواتین گلوکاروں کو انکی موسیقی کے سفر میں ہر مرحلے پر تعاون فراہم کرتے ہیں اور نیہا کی اس پروگرام میں شمولیت اس عزم کی عکاس ہے کہ ہم ابھرتی ہوئی آوازوں عالمی سطح تک پہنچانا چاہتے ہیں ''

ایکول پاکستان جیسے اقدامات کے ذریعے اسپاٹیفائی خواتین گلوکاروں کی عالمی سطح پر حوصلہ افزائی کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ نیہا کریم اللہ کا بطور حالیہ ایکول پاکستان ایمبیسڈر انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ اسپاٹیفائی وسیع اقسام کی آوازوں کو آگے لانے اور پاکستانی ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

پاکستان کی متاثر کن خواتین گلوکاروں کے گیت تلاش کرنے کے لئے سامعین اسپاٹیفائی پر ایکول پاکستان کی پلے لسٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

جنوری 26, 2026

پاکستان اور ملائیشیا کے برادرانہ تعلقات تعلیم کے شعبے میں بھی مستحکم

ملائیشیا میں پاکستانی طلبہ کے لیے عالمی معیار کی تعلیم، ای ایم جی ایس

اسلام آباد: ایجوکیشن ملائیشیا گلوبل سروسز نے اسلام آباد میں ایک نیٹ ورکنگ تقریب کا انعقاد کیا، جس کی میزبانی پاکستان میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر عالی جناب داتو محمد اظہر مزلان نے کی۔ اس موقع پر پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر داتو محمد اظہر مزلان نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا، جو مشترکہ ثقافتی، مذہبی اور عوامی روابط پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کے تعلیمی نظام، عالمی سطح پر تسلیم شدہ جامعات اور مناسب تعلیمی اخراجات کے باعث ملائیشیا پاکستانی طلبہ کے لیے ایک پسندیدہ تعلیمی منزل بنا ہوا ہے۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اس وقت ملائیشیا کی معروف سرکاری و نجی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی روابط کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
 


اس موقع پر موئن احمد، ریجنل ہیڈ جنوبی ایشیا، ایجوکیشن ملائیشیا گلوبل سروسز نے بھی خطاب کیا اور پاکستان کے تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ملائیشیا کے تعلیمی نظام کی مضبوط علمی بنیادوں، صنعت سے ہم آہنگ نصاب اور طلبہ دوست ماحول کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستانی طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ ملائیشیا کی عالمی معیار کی جامعات میں دستیاب تعلیمی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

 یہ تقریب ملائیشیا کی اعلیٰ تعلیمی جامعات اور پاکستان کے تعلیمی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان روابط، تعاون اور تبادلۂ خیال کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔ اس موقع پر ملائیشیا کی معروف جامعات کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں یونیورسٹی آف ملایا، یونیورسٹی اترا ملائیشیا (UUM)، یونیورسٹی کوالالمپور (UniKL)، ایشیا پیسیفک یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن (APU)، یو سی ایس آئی یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سائبرجایا (UOC) شامل ہیں۔
 
تقریب کے اختتام پر ای ایم جی ایس نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستانی طلبہ کے لیے ملائیشیا کو ایک ممتاز عالمی تعلیمی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

خوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ کی جانب سے SME کلسٹر شوکیس ایکسپو 2026 میں نمایاں کاروباری حل پیش

لاہورخوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ  نے SME میڈ اِن پاکستان کلسٹر ایکسپو 2026 میں اپنے اسٹال کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کے
لیے مؤثر اور جامع حل پیش کرتے ہوئے نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس ایکسپو کا انعقاد اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کے زیرِ اہتمام کیا گیا جس میں ملک بھر سے SME شعبے میں کام کرنے والے معتبر اداروں اور پلیٹ فارمز نے شرکت کی۔

SME کلائنٹس کے ساتھ کامیاب شراکت داری اور ثابت شدہ کارکردگی کی بنیاد پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک کو اپنے خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے باعث بھرپور پذیرائی ملی۔ یہ قرضہ پروگرام مختلف زمروں پر مشتمل ہے جو بینک کے متنوع صارفین اور ان کی مختلف کاروباری ضروریات کو مدِنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔



ثاقب حسین ، ریجنل بزنس ہیڈ،خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا"خوشحالی مائیکروفنانس بینک میں SME شعبے کے لیے ہماری اولین ترجیح استحکام اور ترقی ہے جو سادہ اور مؤثر ذرائع کے ذریعے حاصل کی جاتی ہےتاکہ کاروباری مالکان اپنے اثاثوں کو خطرے میں ڈالے بغیر اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔"

بینک کے اسٹال میں خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے تحت مختلف نمایاں حل پیش کیے گئے جن میں رننگ فنانس قرضہ شامل تھا جو مؤثر کیش فلو مینجمنٹ اور ورکنگ کیپیٹل کے تسلسل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، کمرشل وہیکل فنانسنگ جو لاجسٹکس، نقل و حرکت اور تقسیم کی صلاحیت کو بہتر بنا کر کاروباری توسیع میں مدد فراہم کرتی ہے جبکہ چھوٹے کاروباروں کے لیے سولر قرضہ لاگت میں کمی، توانائی میں خود کفالت اور طویل المدتی عملی پائیداری کو فروغ دیتا ہے۔ یہ تمام حل شرکاء میں خاصی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے جو SME شعبے کی عملی ضروریات سے ان کی براہِ راست مطابقت کو ظاہر کرتا ہے۔

صدف ارشد رانا، سینئر ایریا مینیجر، خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا"ہمارے خوشحالی کاروباری قرضہ جات ہمارے صارفین کے ساتھ ہمارے مضبوط تعلق اور مختلف معاشرتی طبقات کی ضروریات کو سمجھنے کا ثبوت ہیں جو مختلف SME صنعتوں میں محفوظ اور پائیدار ترقی کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔"

ملک کے SME شعبے کے ایک مضبوط شراکت دار کے طور پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک اپنے دیہی، شہری اور نیم شہری صارفین کو مخصوص مالی مصنوعات، خدمات اور رہنمائی فراہم کرتا رہے گا جو پاکستان کے SME شعبے کی ترقی کے لیے بینک کے عزم اور ایک نمایاں مائیکروفنانس ادارے کے طور پر اس کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

جنوری 22, 2026

موبی لنک کے انفارمیشن سیکیورٹی سسٹم نے ISO 27001​ کی عالمی سرٹیفکیشن حاصل کرلی



اسلام آباد : پاکستان کے صف اول کے ڈیجیٹل مائیکروفنانس بینک، موبی لنک بینک نے آئی ایس او کی جدید عالمی سرٹیفکیشن (ISO/IEC 27001:2022) حاصل کرلی ہے۔ یہ سرٹیفکیشن اسکے انفارمیشن سیکیورٹی مینجمنٹ سسٹمز (آئی ایس ایم ایس)کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیار ہے۔یہ سرٹیفکیشن اُن اداروں کو دی جاتی ہے جو ڈیٹا سیکیورٹی کے بین الاقوامی تقاضوں پر پورا اترتے ہوں۔ یہ کامیابی موبی لنک بینک کی انفارمیشن سیکیورٹی کی مضبوط گورننس، سائبر خطرات کو منظم انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت، اور بہترین عالمی طریقوں کے تحت صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو ظاہر کرتی ہے۔

عالمی سطح پر اس سرٹیفکیشن (ISO/IEC 27001:2022) کو انفارمیشن سیکیورٹی مینجمنٹ سسٹم کے قیام، اسکے نفاذ اور اس میں مسلسل بہتری کے لیے ایک اعلیٰ معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ سرٹیفکیشن خطرات سے نمٹنے کا واضح فریم ورک فراہم کرتی ہے جو انفارمیشن کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے، اور ڈیٹا کی رازداری، درستگی اور دستیابی کو یقینی بناتی ہے۔ موبی لنک بینک کی یہ کامیابی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اس کا ڈیجیٹل بینکنگ کا نظام مضبوط، خود مختار اور مصدقہ انفارمیشن کے تحفظ کے طریقہ کار پر قائم ہے۔



یہ اہم سنگِ میل موبی لنک بینک کے صارفین کو اولین ترجیح دینے کے وژن اور سروس میں جدت کے عزم سے ہم آہنگ ہے، جہاں عالمی معیار کو بنیادی آپریشنز کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ بینک اپنے پلیٹ فارمز کی سیکیورٹی اور اعتماد کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے تاکہ صارفین کا بھرپور اعتماد قائم ہو اور ڈیجیٹل بینکنگ کی خدمات کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

اس اہم پیش رفت پر اظہار خیال کرتے ہوئے موبی لنک بینک کے چیف انفارمیشن سیکیورٹی آفیسر، مصطفی لوٹیا نے کہا، ''یہ سرٹیفکیشن صارفین کی معلومات کے تحفظ، سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے، اور ہماری تمام سرگرمیوں میں بہترین عالمی طریقوں کی شمولیت کے عزم کو تقویت دیتی ہے۔ ہمارے صارفین اپنے ڈیٹا کے معاملے میں ہم پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں، اور یہ سرٹیفکیشن اس اعتماد کے تحفظ سے متعلق ہماری ذمہ داری کو مزید مستحکم بناتی ہے۔ اس سرٹیفکیشن کی بدولت ہم پاکستان بھر میں محفوظ، جدید اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل بینکنگ کی خدمات مسلسل فراہم کرسکیں گے۔''

یہ سرٹیفکیشن موبی لنک بینک کے اس مقصد کو تقویت دیتی ہے کہ وہ مؤثر گورننس، رسک مینجمنٹ اور سیکیورٹی کنٹرولز کے ذریعے ایک مضبوط انفارمیشن سیکیورٹی مینجمنٹ سسٹم (آئی ایس ایم ایس) قائم کرے، اسے فعال رکھے اور اسے مسلسل بہتر بناتا رہے، تاکہ انفارمیشن کا تحفظ ہو اور محفوظ، پائیدار اور قابلِ اعتماد بینکنگ کی خدمات فراہم کی جا سکیں۔

مشہور اشاعتیں

گوگل اشتہار

تازہ ترین خبریں