‏کراچی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏کراچی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

نومبر 15, 2016

فاروق ستار شاہذیب کے پروگرام میں پرویز مشرف سے کسی بھی ملاقات کی تردید کررہے: حقائق کیا ہیں جانیئے

فاروق ستار شاہذیب کے پروگرام میں پرویز مشرف سے کسی بھی ملاقات کی تردید کررہے: حقائق کیا ہیں جانیئے

اکتوبر 24, 2016

چھٹی منزل سے سے کود کر ریٹائرڈ کے ایم سی ملازم نے خودکشی کرلی

کراچی(ویب ڈیسک)   کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے 1999 میں ریٹائرڈ ہونے والے ملازم نے سوک سینٹر کی چھٹی منزل سے کود کر خود کشی کرلی ہے ۔ ذرائع کے مطابق متوفی کی عمر 60 سالہ  ہے اور ان کا نام محمد اقبال علی  ہے ، اقبال کے ایم سی کا ملازم اور  1999 میں ریٹائر ہوا تھا۔ اقبال کی لاش کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔  اقبال چھٹی منزل سے گرکر اتنا زخمی ہوگیا تھا کہ ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔ پولیس کے مطابق متوفی چھٹی منزل سے چھلانگ لگائی تھی، واقعے خودکشی معلوم ہوتا ہے تاہم پولیس واقعے کی تفتیش کررہی ہے۔ متوفی اقبال لانڈھی کے علاقے مانسہرہ کالونی کے سکونتی تھے۔

کہا جاتا ہے کہ  کے ایم سی کے 1300 سے زائد ملازمین اپنے پنشن کے حصول کے لئے مارے مارے پھیرتے ہیں  اور متوفی کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ کئی روز سے وہ اپنے پنشن کے لئے سول سنٹر آتا جاتا تھا، جس میں انہیں ناکامی ہوئی اور بلاآخر خودکشی کو فاقہ کشی پر ترجیح دیتے ہوئے چھٹی منزل سے چھلانگ لگائی۔ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر بلدیاتی اداروں کے سبکدوش ملازمین کے پنشن کے لئے 74 کروڑ  کے چیک تیار تو کئے گئے ہیں لیکن اداروں کے پاس فنڈ نہیں ہیں  لہذا وہ چیک بھی ملازمین میں تقسیم نہیں کرسکتے۔

جولائی 27, 2016

وسیم اخترکے سنسنی خیز انکشافات نے ہلچل مچادی، تفتیشی رپورٹ منظرعام پرآگئی، ایم کیو ایم میں اضطراب


کراچی (این این آئی) شہرقائدکے نامزد میئروسیم اخترکی تفتیشی رپورٹ منظرعام پر، سنسنی خیز انکشافات نے سندھ سمیت دنیابھرمیں ہلچل مچادی،شہرقائد کے نامزدمیئروسیم اخترکی تفتیشی رپورٹ منظرعام پر آگئی ہے۔

رپورٹ میں وسیم اخترنے انکشاف کیاہے کہ 12 مئی کوالطاف حسین کے کہنے پرسندھ ہائیکورٹ کاگھیراؤ کیا۔ متحدہ قائدنے ہدایت کی تھی کہ جسٹس افتخارچوہدری کی ریلی کسی صورت نہیں نکلنی چاہئے ۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے نامزدمیئروسیم اخترکی تفتیشی رپورٹ منظرعام پر آگئی ہے۔رپورٹ میں سنسنی خیزانکشافات سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ میں وسیم اخترنے اعتراف کیاہے کہ 12 مئی2007 کوالطاف حسین کے کہنے پرسندھ ہائیکورٹ کاگھیراؤ کیا۔ الطاف حسین نے ہدایت دی کہ جسٹس افتخارچوہدری کی ریلی کسی صورت نہیں نکلنی چاہئے۔ ریلی نکلی توچاہے جتنے بھی لوگ مارناپڑیں،ریلی ناکام بنادی جائے۔وسیم اختررپورٹ میں کہتے ہیں کہ بارہ مئی سے پہلے نائن زیروپرایک میٹنگ ہوئی،جس میں بتایاگیاکہ بارہ مئی کوپولیس غیرمسلح ہوگی اورمزاحمت نہیں کریگی۔ 

ملاقات میں مختلف سیکٹروں کیانچارج موجودتھے۔وسیم اخترنیرپورٹ میں کہاکہ الطاف حسین ایجنسیوں کو برا بھلارا کے کہنیپرکہتیہیں۔ الطاف حسین کی تقریریں سننیکیحق میں نہیں لیکن مجبوری سے سننا پڑتی ہیں ۔اس کیعلاوہ کراچی میں زکو،فطرہ اور قربانی کی کھالوں کی آمدن کا بڑا حصہ الطاف حسین کو جاتاہے۔وسیم اختررپورٹ میں بتاتیہیں کہ ایم کیوایم سمیت تمام جماعتوں میں عسکری ونگ ہیں۔ ایم کیوایم کیعسکری ونگ کوحماد صدیقی لیڈ کرتاتھا۔انہوں نیبتایاکہ وہ تین جون کوعدالتی اجازت کے بعداہلخانہ کے ہمراہ لندن گئے ۔ لندن سیکرٹریٹ میں دو دن گھنٹوں انتظارکرتے رہے لیکن الطاف حسین نہیں ملے۔

جولائی 26, 2016

کالعدم تنظیم کے گرفتار ٹارگٹ کلر نے دوران تفتیش اہم انکشافات کئے

 کراچی (ویب ڈیسک) کراچی میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کالعدم جماعت کے ٹارگٹ کلر سرفراز نے دوران تفتیش اہم انکشافات کئے ۔ 

دہشتگرد نے پولیس اہلکاروں، ٹریفک پولیس اہلکاروں اور نجی ٹی وی چینل کے تین افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔ کراچی کے فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا پولیس کے ہاتھوں گرفتار کالعدم جماعت کے دہشتگرد سرفراز نے دوران تفتیش اہم انکشافات کر دیئے۔ دہشتگرد نے سال 2013 میں نکل پالش کا کام کرنے والے باپ اور بیٹے کو فرقہ واریت کی بنیاد پر قتل کیا۔ ملزم نے 2014 میں اورنگی ٹاون اقبال مارکیٹ کے
علاقے میں غنی عرف گنجا ماما کو قتل کیا۔ ملزم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر جنوری 2014 میں بورڈ آفس کے قریب فائرنگ کر کے نجی ٹی وی چینل کے تین افراد کو قتل کرنے کا بھی اعتراف کیا ہے۔ دہشتگرد کے مطابق گروہ کے سرغنہ امیر صاحب کے کہنے پر شاہنواز اور اسلم سمیت متعدد پولیس اہلکاروں اور ٹریفک پولیس اہلکاروں کو ضلع سینٹرل میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جبکہ ڈبہ موڑ کے قریب رکشہ چلانے والے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن کو قتل کیا۔ دہشتگرد کے دیگر ساتھیوں کی تلاش جاری ہے.

چارسالوں کے اندر برآمدات 25 ارب ڈالر سے کم ہوکر 22 ارب ڈالر تک آگئے، جو تشویشناک ہے

کراچی: پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ برآمدات مسلسل گر رہی ہیں۔ گزشتہ چار سال میں برآمدات میں 3.3 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ 2011 میں برآمدات 25.3 ارب ڈالر تھیں جو اب 22ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔ 

برآمدات جی ڈی پی کے 14 فیصد سے گر کر 11 فیصد رہ گئی ہیں اور ان میں مزید کمی آ رہی ہے جو تشویشناک ہے۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ 2008 میں قرضوں کی ادائیگی پر جی ڈی پی کا 11.3 فیصد خرچ ہوتا تھا مگر اب ریکارڈ قرضوں کی وجہ سے جی ڈی پی کا 19.1 فیصد خرچ ہو رہا ہے جو ملکی وسائل پر بڑا بوجھ ہے۔ برآمدات گرنے کی وجوہات میں ادارے کی نا اہلی سر فہرست ہے اسکے ساتھ ساتھ توانائی بحران،پیداواری لاگت میںمسلسل اضافہ، سیاسی عدم استحکام، ویلیو ایڈیشن کو نظر انداز کرنا، خام مال کی برآمد پر زیادہ توجہ اور جی ایس پی پلس کی سہولت سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے میں ناکامی ہے۔ 

آزادانہ تجارت کے معاہدوں سے فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہو رہا ہے، سرمایہ کارمینوفیکچرنگ کے بجائے ٹریڈنگ کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ میاں زاہد حسین

انھوں نے کہا کہ بہت سے فری ٹریڈمعاہدوں سے ملک کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچا ہے مگر اس سلسلے میں نہ کبھی ذمہ داروں کا تعین کیا گیا نہ کوئی خاص کاروائی کی گئی۔ان معاہدوں کے جو نکات ملکی مفاد کے خلاف ہیں ان پر فوری نظر الثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی برآمدات گرنے کا ایک سبب اسٹرکچرل خامیا ں ہیںجبکہ برآمدی شعبے کو غیر مسابقانہ پالیسی، نامناسب انفرا اسٹرکچر اور ہائی ٹرانزیکشن کاسٹ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسکے علاوہ برآمدی صنعت کو بچانے کی پالیسی واضح نہیں اور کئی شعبے بین الاقوامی مارکیٹ کے رحم و کرم پر ہیں۔ایک دہائی سے جاری توانائی بحران کی وجہ سے بھی معیشت پر بہت منفی اثر پڑا ہے جبکہ ریفنڈز کی عدم ادائیگی نے برآمدی سیکٹر کو کاری ضرب لگائی ہے۔ 

بنگلہ دیش، بھارت اور ویت نام میں بجلی اور گیس سستی ہیں جبکہ ہمارے یہاں ان کی قیمت زیادہ ہے۔انھوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے قوانین لبرل ہیں مگر ان سے فائدہ نہیں ہو رہا کیونکہ لوگوں کا رجحان ٹریڈنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مینوفیکچرنگ کا شعبہ کافی عرصے سے زوال پذیر ہے کیوں کہ کچھ بنانے کے لیے بہت سی چیزوں کا اہتمام کرنا پڑتا ہے جب کہ ٹریڈنگ ایک کمرے سے بھی ہو جاتی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ، کموڈٹی مارکیٹ اور لینڈ مارکیٹ کے ابھار نے بھی مینوفیکچرنگ کو متاثر کیا ہے۔ ملک میںایسا کوئی بینک نہیں جو صنعتی شعبے کی مدد کرے جبکہ کمرشل بینک اب طویل المدتی قرضے نہیں دے رہے کیونکہ انھیں حکومت کو قرضے دینے میں زیادہ فائدہ نظر آتا ہے۔



جولائی 19, 2016

ضمانت مسترد؛ انیس قائم خانی، وسیم اختر، رؤف صدیقی گرفتار، قادر پٹیل فرار


کراچی (اردو وائس پاکستان نیوز ڈیسک) حصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کردی۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف دہشت گردوں کے علاج اور پناہ دینے سے متعلق کیس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنماؤں وسیم اختر اور رؤف صدیقی، مصطفیٰ کمال کی پاک سرزمین پارٹی کے رہنما انیس قائم خانی اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما قادر پٹیل کی ضمانت میں توثیق مسترد کی درخواست مسترد کرتے ہوئے گرفتاری کا حکم دے دیا۔

درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد پولیس نے وسیم اختر، رؤف صدیقی اور انیس قائم خانی کو باقاعدہ طور پر گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا ہے جبکہ قادر پٹیل انسداد دہشت گردی عدالت سے خاموشی سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ بعد ازاں خبریں آئیں ہیں کہ وہ خود بوٹ بیسن تھانے میں جاکر گرفتاری دیں گے۔

پولیس اہلکاروں کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ قادر پٹیل کی ضمانت مسترد ہوچکی ہے، فیصلے قادر پٹیل کو علم ہوتے ہی پٹیل کمرہ عدالت سے فرار ہوگئے، تاہم ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل فرار نہیں ہوئے، وہ کسی ضروری کام سے باہر گئے اور خود ہی پولیس کے سامنے گرفتاری دیں گے۔

ڈاکٹر عاصم کیس میں مرکزی ملزم ڈاکٹر عاصم حسین اور پاسبان کے سیکریٹری جنرل عثمان معظم پہلے ہی زیر حراست ہیں، جن کی بھی ضمانتیں مسترد کی  جاچکی ہیں۔ 

مشہور اشاعتیں

گوگل اشتہار

تازہ ترین خبریں