عالمی خبریں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
عالمی خبریں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اکتوبر 15, 2016

بھارت میں درندگی کی نئی مثال قائم کردی گئی، قبر سے مسلمان خاتون کی لاش نکال کر زنا کی گئی۔

بھارت میں درندگی کی نئی مثال قائم کردی گئی، قبر سے مسلمان خاتون کی لاش نکال کر زنا کی گئی۔


Men gang rape body of a woman after exhuming it... by myvoicetv

اگست 22, 2016

شادی کی تقریب میں خود کش حملہ، دھماکے سے 51 افراد جاں بحق 90 سے زائد زخمی

انقرہ (ویب ڈیسک) ترکی کے صوبے غازی انتب میں شادی کی ایک تقریب میں خود کش حملہ کرلیا گیا حملے میں 51 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ ترک میڈیا کی رپورٹس کے مطابق غازی انتب کے خود کش حملہ اس وقت ہوا جب شادی کی تقریب جاری تھی۔ زور دھماکے ہوئے، حملے میں 51 افراد جاں بحق اور 100 کے قریب زخمی ہوگئے ہیں زخمیون میں بھی بعض کی حالت تشویشنال ہے۔ دھماکے کے بعد ہر طرف تباہی اور لاشیں پھیل گئیں، جس جگہ چند لمحے قبل خوشیوں کے شادیانے بج رہے تھے وہاں موت رقص کرنے لگی۔ دھماکے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں پہنچ گئیں اور زخمیوں کوہسپتالوں میں منتقل کردیا ۔ تمام قریبی ہسپتالوں میں ایمر جنسی بھی نافذ کردی گئی۔ رواں سال کے کچھ مہینوں میں میں ترکی میں اس سے قبل بھی کئی دہشتگرد حملے ہوئے ہیں ان واقعات میں درجنوں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ حال ہی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد بعد تری کے اندرونی حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں۔

اگست 05, 2016

انسانی سمگلنگ اور جسم فروشی سے بچ کر نکلی ایک عورت کی کہانی انھی کی زبانی۔

کرٹیسی بی بی سی اردو
میرا شوہر مجھے ایک کمرے میں لے گیا، جہاں بہت سی لڑکیاں بیٹھی تھیں، اور بولا کہ تم میرے خلاف گھریلو تشدد کا کیس کروگی، تو بیشک میں تمہیں یہاں لے آیا، اب زندگی بھر یہیں رہنا۔

٭ ’اب میں گندی لڑکی ہوگئی تھی‘

’یہ ایک کوٹھا تھا۔ میرے شوہر مجھ سے بدلہ لینے کے لیے مجھے یہاں دھوکے سے لے آیا تھا۔ میں 16 سال کی تھی جب اس سے شادی کر دی گئی، وہ بہت مار پیٹ کرتا تھا۔

میں پڑھی لکھی نہیں تھي پر ہمت کر کے واپس گھر بھاگ آئی اور اس کے خلاف گھریلو تشدد کا مقدمہ دائر کر دیا۔
یہ اسی کا بدلہ تھا۔ بنگال کے ایک گاؤں سے وہ مجھے نشے کی دوا کھلا کر پُونے کے کوٹھے میں لے آیا تھا۔

وہاں مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا تھا۔ روز ہر وقت روتی رہتی، یہی سوچتے ہوئے کہ کب گھر واپس جا سکوں گی۔






ایک سماجی تنظیم نے تربیت دی اور دکان شروع کرائی

اس دوران میرے اندر بہت سارا غصہ اور انصاف پانے کی ضد پیدا ہو گئی۔
پولیس نے جب چھڑایا اور پُونے سے واپس بنگال آئی تو وکیل کے پاس گئی اور کہا کہ شوہر کے خلاف انسانی سمگلنگ کا کیس کرنا ہے۔
انہوں نے بہت سارے پیسے مانگ ڈالے۔ پر میرے پاس کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ کئی بار تو کھانے کے لیے بھی نہیں ہوتا تھا۔


پھر ایک سماجی تنظیم نے تربیت دی اور دکان شروع کرائی۔
میں راشن کا سامان فروخت لگی۔ خوف کو پیچھے کر، ایک بار پھر لوگوں کا سامنا کرنے کی ہمت ہوئی۔
اسی ادارے کی مدد سے شوہر کے خلاف انسانی اسمگلنگ کا مقدمہ بھی دائر کروایا۔

اپنے خاندان میں پہلی خاتون ہوں جس نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر جب بیان دینے کے لیے ایک بار پھر پُونے جانا پڑا تو پھر مشکلات شروع ہوئیں۔
گاؤں والوں نے طعنے دینے شروع کر دیے۔ وہ کہتے، کہاں جاتی ہو؟ کیا کرتی ہو؟ ایک بار جہاں سے ہو آئی وہاں اب کیوں جاتی ہو؟
خاندان سے کہتے کہ اتنی بڑی لڑکی ہے، ایک بار شادی خراب ہوئی تو کیا، طلاق دلاؤ اور پھر کرا دو، گھر میں رکھنے سے شرم نہیں آتی؟
اور یہ سب سن کر میرا خاندان مجھ سے ہی جھگڑتا ہے۔ بس یہی مجھے سب برا لگتا ہے۔

میں جب اتنی کوشش کر رہی ہوں کہ سب ٹھیک ہو جائے، میری دکان چلے، اس کے بعد خاندان والے بالکل ساتھ نہیں دیتے، کہتے ہیں تم سے ہوتا ہے تو کرو، ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔
تو میں نے اب یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک انسان جو اپنے لیے سوچتا ہے وہی سب سے اہم ہے۔
اگر میں ہی سوچوں کہ میں گندی ہوں تو سب خراب ہو جائے گا۔ پر میں نے سمجھا ہے کہ میں ٹھیک ہوں تو اب ٹھیک لگتا ہے۔



جولائی 29, 2016

غریب میاں بیوی پندرہ روپے کا قرض ادا نہ کرسکنے پر قتل کردیے گئے

نئی دہلی (اردو وائس: ویب ڈیسک)  بھارتی پولیس کے مطابق ریاست اتر پردیش میں ایک میاں بیوی کو 15 روپے کا قرض بروقت ادا نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک کر دیا گیا ۔ جمعرات کو یہ میاں بیوی مزدوری کے لیے جارہے تھے کہ راستے میں ایک کریانہ اسٹور کے مالک نے انہیں پندرہ روپے قرض ادا کرنے کے لئے کہا، جس کے بعد لڑائی ہوئی اور دکان کے مالک نے کلہاڑیوں کے وار کرتے ہوئے میاں بیوی کو قتل کر دیا۔ 

ضلع مین پوری کے تفتیشی افسر ارون کمار نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دکاندار کی طرف سے سوال کرنے کے بعد میاں بیوی نے کہا کہ وہ بعد میں پندرہ روپے واپس کر دیں گے لیکن دکاندار اشتعال آ کرکلہاڑی سے وار کرنا شروع کر دیا۔ ملزم  دکاندار کی عمر 61 سال کے قریب ہے اور درمیانی عمر کے میاں بیوی نے ایک ہفتہ پہلے یہ کہتے ہوئے سامان خریدا تھا کہ وہ آئندہ چند روز کے اندر اندر ہی اسے پندرہ روپے واپس کر دیں گے۔ واقعے کے بعد دکاندار کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ اس سے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ بھارت میں عدم برداشت بڑھ گئی ہے معمولی باتوں پرشروع ہونے والی لڑائیوں کی وجہ سے سالانہ ہزاروں افراد مارے جاتے ہیں۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار چودہ میں نئی دہلی میں 15 فیصد قتل عدم برداشت کی وجہ سے شروع ہونے والی لڑائی سے ہوئے اور یہ قتل کرنے والے وہ عام لوگ تھے، جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔ بھارتی نیشنل کریمنل ریکارڈ بیورو کے مطابق سن دو ہزار چودہ میں ملک بھر میں 33 ہزار سے زائد افراد کو قتل کیا گیا تھا۔

جولائی 25, 2016

بھارت میں #گائے کا پیشاب دودھ سے زیادہ فروخت ہونے لگا، 80 روپے لیٹر

نئی دہلی (این این آئی 25 جولائی 2016) بھارت میں گائے کا پیشاب دودھ سے زیاد فروخت ہونے لگا ہے، فی لیٹر پیشاب کے نرخ 80سے سو روپے ہیں، میڈیارپورٹس کے مطابق مودی حکومت نے گزشتہ دو برس میں گائے کیلئے باڑوں کی تعمیر پر پانچ ارب آٹھ کروڑ روپے خرچ کیے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں پیشاب کے استعمال سے تین مہلک بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ بھارت میں دودھ کی فروخت گائے کے پیشاب کے مقابلے میں کم ہو گئی ہے۔ 

بھارتی خواتین اسے اکھٹا کرنے کیلئے بہت تگ و دو کرتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ غلاظت کئی طرح کے خطرناک بیکٹیریا اور وائرس کی حامل ہے ۔سڈنی یونیورسٹی کے بھارتی پروفیسر کا کہنا تھا کہ بھارت میں تین مہلک امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں جو گائے کے پیشاب کی وجہ سے لوگوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ گائے کی غلاظت سے گھریلو سطح پر تقریباً تیس ادویات تیا ر کی جا رہی ہیں۔بھارت میں گائے کے پیشاب کا سب سے بڑا خریدار یوگا گرو بابا رام دیو ہے جو اس غلاظت سے مختلف مصنوعات تیار کرتا ہے جس کی وجہ سے کئی عالمی سطح کے کارروباری گروپس کی بھارت میں تیار کردہپروڈکٹس کے بند ہونے کا خدشہ پید اہوگیا ہے۔رام دیو یورین سے تیار اپنی مصنوعات کی فروخت کیلئے یومیہ ڈیڑھ لاکھ روپے اشتہاری مہم پر خرچ کرتا ہے۔ 



بھارت میں ایک تھراپی ہیلتھ کلینک ماہانہ 25ہزار لیٹرپیشاب خریدتا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ ا س نے گزشتہ دو دہائیوں میں 12لاکھ مریضوں کا علاج اسی غلاظت سے کیا ہے جو اپنی پروڈکٹس کو یومیہ چار ہزار آن لائن مریضوں کو فروخت کرتا ہے۔بھارتی جنتا پارٹی کے لوک سبھا کے رکن سبرامینیم سوامی گائے کے تحفظ کے لئے موجودہ حکومتی کوششوں سے اتفاق نہیں کرتے، انہوں نے کہاکہ بھارت اس وقت دنیا میں گوشت برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اسی لئے بھینس کی آڑ میں لوگ گائے کو ذبح کرتے ہیں اور بھینس کا گوشت بنا کر فروخت کرتے ہیں


جولائی 09, 2016

جدّہ میں خود کش حملہ آور کی شناخت پاکستانی ہونے کے بعد سعودی عرب نے 12 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا

ریاض (وقائع نگار ابوالحسنین: ٹائمز آف چترال 9 جولائی 2016) سعودی شہر جدّہ میں امریکی کونسلیٹ کے باہر خود کش حملہ کرنے والا پاکستانی نکلا۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے تین شہروں میں تین خود کش حملے ہوئے۔ مدینہ میں پیغمبر اسلام ﷺ کی مسجد نبومی میں محمدﷺ کے روضہ مبارک کے قریب ہونے والے خود کش دھکاکے نے مسلم دنیا میں بھونچال پیدا کردیا۔ دنیا بھر کے مسلمان اس بات کو لئے شدید غم و عصے میں ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے ہر ممکن تعادن کی پیشکش کی ہے۔ پاکستانی سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے بھی سعودی عرب میں ہونے والے یکے بعد دیگرے 3 دھماکوں پر تشویش کا اظہار کیا اور سعودی ولی عہد اور دیگر حکام کو فون کرنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

خود کش حملوں کے بعد سعدی عرب سخت ترین اقدامت کرتے ہوئے 12 پاکستانیوں سمیت 19 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ مدینہ، قطیف اور جدہ میں ہونے والے خود کش حملوں میں 7 افراد جان بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ 

مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ پر حملہ کرنے والا شخص سعودی شہری نکلا تھا۔ 26 سالہ نیئر موسلم حماد البلاوی ایک منشیات کا عادی شخص تھا، جس کی شناخت مسجد نبوی پر حملہ کرنے والے کے طور پر ہوئی تھی۔ یہ بات سعودی ایجنسی نے میڈیا کو بتائی تھی۔ قطیف میں تین حملہ آ ور ملوث تھے، جن میں سے ایک کا نام ابراہم صالح محمد ال امر تھا جس کی عمر 23 برس تھی، جس کے بارے میں سیکوریٹی اداروں کا کہنا کہ یہ شخص مختلف احتجاجوں میں حصہ لیتا رہا تھا۔

جدّہ میں امریکی کونسلیٹ کے قریب خود کش دھماکہ کرنے والے شخص کی شناخت عبداللہ قالزار خان کے نام ہوئی جو سعودی وزارت کے مطابق سعودی عرب میں 12 سے سال مقیم ایک ڈرائیور تھا۔ جس کا تعلق پاکسان سے تھا۔ 


مشہور اشاعتیں

گوگل اشتہار

تازہ ترین خبریں